بی جے پی حکومت نے 18لاکھ ہندوؤں کو ٹھگا ہے: آپ
ممبئی، 8/ مارچ (ایس او نیوز/ ایجنسی) یس بینک سمیت نجی شعبے کے کچھ بینکوں کے بحران پر کانگریس نے ہفتے کے روز کہا کہ نریندر مودی حکومت کی قیادت میں ہندو واقعی خطرے میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر اکاؤنٹ ہولڈر اکثریتی برادری سے ہیں۔
ریاستی کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے دعویٰ کیا ہے کہ اُڈیشہ کے لارڈ جگناتھ مندر کا 545کروڑ روپے کا فنڈ یس بینک میں جمع ہے۔ ساونت نے کہا، ’بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں پولر ائرزیشن کی چھوٹی سیاست کے لئے، ہندوؤں کے خطرے میں ہونے‘ کی بات کرتی ہیں لیکن مودی سرکار کی نگرانی میں، ہندو واقعی خطرے میں ہیں۔ ’انہوں نے کہا، ’بینکوں میں زیادہ تر رقم ہندوؤں کی ہے، جواب محفوط نہیں ہیں۔ بہت سے کنبے برباد ہوگئے۔ اس کے لئے صرف مودی سرکار ہی ذمہ دار ہے۔ ساونت نے پنجاب اور مہاراشٹرا کو آپریٹو (پی ایم سی) بینک گھوٹالہ کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پیسے پھنس جانے کی فکر میں بھی فوت ہوگئے۔ کانگریس قائد نے الزام لگایا کہ نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجئے مالیا جیسے مفرور لوگوں نے اکثریت والے ہندوؤں کی رقم لوٹ لی۔
ادھر عام آدمی پارٹی (آپ) نے بھی بی جے پی شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یس بینک کو دیوالیہ بنانے میں بی جے پی سرکار کا ہاتھ ہے۔ ہندونواز ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی حکومت نے یس بینک کو ڈوبا کر 18/ لاکھ ہندوؤں کو ٹھگ لیا۔ یس بینک کے 51/ ہزار اکائنٹ ہولڈروں میں تقریباً 48/ہزار ہندو ہیں۔
آپ کے اسمبلی رکن راگھو چڈھا نے کہا کہ یس بینک بی جے پی حکومت کے دور میں کئی گنا زیادہ قرض دیا اور اب وہ دیوالیہ ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان جنگنا تھ ٹرسٹ کا یس بینک میں 545کروڑ روپے تھا۔ ان سبھوں کی رقم کو بڑے سرمایہ داروں نے بی جے پی کے دور حکومت میں لوٹ لیا۔